Summer is just knocking at doors with sunny skies and soaring temperatures. This particular afternoon was quite bright but pleasant in his office at Hokona Hall, when Ziarat Hossain, Ph.D. pulled his chair from his desk and offered a wide smile.

Hossain is a professor, regents’ lecturer and the current chair of the Department of Language, Literacy and Sociocultural Studies at the University of New Mexico. He earned a Bachelor of Science with honors and a master’s degree in population geography from Jahangirnagar University in Bangladesh.

Born and raised in a village in Bangladesh, Hossain moved to Canada to pursue another master’s degree in human geography in 1985 under the Canadian International Development Agency scholarship through the geography department of the University of Manitoba.



He moved to the United States in 1989 and earned his doctorate from Syracuse University in Child and Family Studies. His dissertation concentration was on African-American fathers within dual-earner families. Immediately after completing his doctorate, he moved to Miami, Florida and served as a postdoctoral fellow at the University of Miami Medical School from 1992 to 1994.

Hossain started his professional career as an assistant professor at the Psychology Department at Fort Lewis College in Colorado in 1994.

He moved to UNM in 2005 and since then, he has been serving at various positions including assistant professor, an associate professor and professor. He has been a chair for LLSS since Fall 2017.

Hossain said outside of work he loves reading books and spending time with family and friends.

He has 21 years of teaching, two years of intensive and seven years of partial administrative experience.

“It is tough and challenging but exciting, too, as it allows me to meet many and varied young people full of energy and passion, from all over the world, and I enjoy it,” Hossain said of being an instructor.

Hossain’s research interests include fathering, early childhood development and gender roles.

Being an advisor, he has a long list of supervisees. His two doctoral advisees have defended their work and four are in the process of writing their dissertations. Moreover, he has also supervised 30 students earning their master’s degrees.

Hossain has co-authored a book titled “Grandparents in Cultural Context,” along with over 10 book chapters and 30 research publications.

When discussing his teaching and research projects, he said, “With each piece I do, I hope to improve and achieve something new.”

Hossain has also served as a regional representative for PORSHI Magazine, a Bangla magazine, for 10 years.

As an instructor, Hossain said his goal is to open up a world of new possibilities to his students.

“I believe that everyone is creative,” he said.

Mohib Rehman, a family studies graduate student, said Hossian is creative, critical and above all, helpful.

“My research involves international as well as ethnic families,” Hossian said. “It involves all ethnic groups including African Americans, Latinos, American Indians, Mexican immigrant families, Malaysian families and Bangladeshi families.”

He said his future research plans include doing a cross-cultural analysis of data he has gathered from the demographics mentioned above to find any patterns of father involvement. He called his work “outcome-based” and said he would like to see how fathers’ involvement can affect children’s schooling, social behavior and self-esteem.

Hafiz Muhammad Fazalehaq, a graduate student in the LLSS department, said Hossain is always trying to think outside of the box.

“He is different in a sense that he looks beyond books, deep down in human lives and livings,” he said.

“Overall in terms of believing, America is the greatest country, and I’m grateful that I got the opportunity to come here and live here and this is, serving here, the small way I gave back to the country,” Hossain said.

He said his advice for foreign students is “their future is us, and it’s how I see them. Their success is America’s success.”

When asked if he ever thinks about going back to Bangladesh, “Hossain said, “In terms of roots or settling down, America is my country now. I do not see anything in immediate future, but in the long run it’s (on) my radar, and I will go if I find any teaching or administrative job, not just in Bangladesh but anywhere in the world (for a few years), because...the world has become very globalized these days.”

Tasawar Shah is the news reporter at the Daily Lobo. He can be contacted at news@dailylobo.com or on Twitter @tashah_80.

The Urdu translation of this article was edited by Hafiz Ahmad Yar. He grew up in Pakistan and is a graduate student in the Department of Language, Literacy and Sociocultural Studies. He can be contacted at hafizahmadyar@gmail.com or Twitter @DailyLobo.


آج کل گرمیاں چمکدار روشن آسمان اور بڑھتے ہوئےدرجہ حرارت کے ذریعے اپنی آمد کا اعلان کر رہی ہیں۔گزشتہ دنوں ایک کافی چمکدار لیکن خوشگوار دوپہرکو پی ایچ ڈی یافتہ زیارت حُسین نے حکونا ہال میں اپنے دفتر کے اندر اپنے کمپیوٹر سے کرسی کو پیچھے ہٹاتے ہوئے مجھے بھر پور مسکراہٹ کے ساتھ خوش آمدید کہا۔

پروفیسر حُسین ریجنٹ لیکچرر ہونے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی آف نیو میکسیکو میں آج کل شعبہ زبان، خواندگی، اور معاشرتی علوم کے انچارج بھی ہیں۔

پروفیسر حُسین نے یونیورسٹی آف جہانگیر نگر، بنگلہ دیش سے امتیازی نمبروں کے ساتھ بیچلر آف سائنس اور انسانی جغرافیہ میں ماسٹر کیا۔ بنگلہ دیش کے ایک دیہات سے تعلق رکھنے والے پروفیسر حُسین ١٩٨٥ میں کینیڈا کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارہ کے وظیفے پر یونیورسٹی آف منی ٹوبا کے شعبہ جغرافیہ سے انسانی جغرافیہ میں ایک اور ماسٹر کرنے چلے گئے۔ حُسین ١٩٨٩ میں امریکہ آ گئے اور سیرہ کیوز یونیورسٹی نیو یارک سے شعبہ چائلڈ اینڈ فیملی اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ میاں بیوی میں سے دونوں کمانے والے خاندانوں میں افریکی امریکی والد کے متعلق تھا۔

حُسین پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے فورن بعد میامی، فلوریڈا چلے گئے اور یونیورسٹی آف میامی کے میڈیکل سکول میں ١٩٩٢ اور ١٩٩٤ کے درمیان پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو شپ مکمل کی۔ حُسین نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز ١٩٩٤میں فورٹ لیویز کالج کولوراڈو کے شعبہ نفسیات سے کیا۔ حُسین ٢٠٠٥ میں یونیورسٹی آف نیو میکسیکو آ گئے اور تب سے یہاں پر اپنی مختلف ذمہ داریاں بطور اسسٹنٹ پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر، پروفیسر، اورسیمسٹر خزاں ٢٠١٧ سے شعبہ زبان، خواندگی، اور معاشرتی علوم کے انچارج کے طور پر ادا کر رہے ہیں۔

حُسین اکیس سالہ تدریسی اور دو سال کا مکمل اور سات سال کا جزوی انتظامی تجربہ رکھتے ہیں۔ حُسین نے بطور استاد اپنے تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مشکل اور مہم جوئی والا کام تو ہے لیکن مزے دار بھی ہے کیوں کہ یہ مجھے پوری دنیا سے آئے ہوئے ہمت اور جذبے سے سرشار نوجوانوں کے ساتھ ملنے کا موقع دیتا ہے اور میں اس سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔

حُسین کے تحقیقی شوق میں فادرنگ، ارلی چائلڈ ہڈ اور جینڈر کا کردار شامل ہیں۔ حُسین بطور سپروائزر اپنے طالب علموں کی ایک لمبی فہرست رکھتے ہیں۔ حُسین کے دو شاگرد پی ایچ ڈی مکمل کر چکے ہیں جبکہ چار اپنے مقالہ جات پر کام کر رہے ہیں۔ مزید بر آں حسین ماسٹر کے تیس طالب علموں کے سپروائزر بھی رہ چکے ہیں۔ حُسین تیس تحقیقی مطبوعات، دس مختلف کتابوں کے ابواب،اور گرانڈپیئرنٹنگ ان کلچرل کونٹیکسٹ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھ چکے ہیں۔ اپنے تحقیقی پراجیکٹ اور پڑھائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے حُسین نے بتایا کہ وہ اپنے ہر کام کو پہلے سے کچھ بہتر اور جدید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حُسین ایک بنگلہ دیشی میگزین پورشے کے ساتھ دس سال تک مقامی نمائندے کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک استاد ہونے کے ناطے میرا مقصد ہے کہ میں اپنے شاگردوں کے لیے ممکنات کی ایک نئی دنیا کھولوں۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہر کوئی تخلیقی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ شعبہ فیملی اسٹڈیز کے گریجویٹ طالب علم محب رحمان نے پروفیسر حُسین کے متعلق تائثرات دیتے ہوئے کہا کہ وہ تخلیقی، تنقیدی اور سب سے بڑھ کے مدد کرنے والے انسان ہیں۔ میری تحقیق میں بین الاقوامی ،لسانی اور گروہی خاندان شامل ہیں۔ میری تحقیق میں تمام لسانی گروہ بشمول افریکن امریکن ، لاطینی باشندے، امریکن انڈین، میکسیکن مہاجر خاندان، ملائیشیائی خاندان اور بنگلہ دیشی خاندان شامل ہیں۔ اپنے مستقبل کے تحقیقی پراجیکٹ کے بارے میں بتاتے ہوئے حُسین نے کہا کہ میں اوپر بتائے گئے خاندانوں سے حاصل کیے گئے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے گھریلو معاملات میں باپ کی شمولیت کےرجحانات جاننا چاہتا ہوں۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ کس طرح گھریلو معاملات میں باپ کی شمولیت بچوں پر اثر انداز ہو رہی ہے ۔ باپ کا یہ اثر بچوں کی سکولنگ، رویوں اور عزت نفس پر دیکھا جائے گا۔ اس طرح اصل میں یہ نتائج پر مبنی تحقیق ہو گی۔ شعبہ ایل ایل ایس ایس کے طالب علم حافظ محمد فضل حق نے کہا کہ پروفیسر حُسین ہمیشہ باقی لوگوں سے مختلف سوچتا ہے۔ وہ دوسروں سے مختلف اس لیے ہے کے وہ کتابوں سے باہر لوگوں کی زندگی اور رہن سہن کا مشاہدہ کرتا ہے۔

باہر کی دنیا سے آئے ہوئے شاگرد جو امریکہ میں سکونت پذیر ہونا چاہیں ، انکو نصیحت کرتے ہو ئے حُسین نے کہا

اسنے باہر سے آئے ہوئے اساتذہ اور طالب علموں سے ہمیشہ زیادہ توقعات وابسطہ کی ہیں جس کو وہ نہ لکھے ہوئے معیارکے طور پر دیکھتا ہے۔ مجھے امریکیوں کے مقابلے میں زیادہ تحقیقی پرچے لکھنے پڑھتے ہیں کیوں کہ مجھ سے اس کی امید کی جاتی ہے لیکن اگر اس سے ہٹ کے آپ میرے سے پوچھو تو میں کہوں گا امریکہ ایک بہت عظیم ملک ہے اور میں شکر گزار ہوں کہ مجھے یہاں آنے اور رہنے کا موقع ملا اور یہاں ملازمت کر کے میں امریکہ کو کچھ واپس لوٹانے کی کوشش کر رہا ہوں۔

میری بیرون ممالک سے آئے ہوئے طالب علموں کو نصیحت ہو گی کہ وہ امریکہ کو ہی اپنا مستقبل سمجھیں اور میں دیکھتا ہوں کہ ان کی کامیابی امریکہ کی کامیابی ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کبھی واپس جانے کے بارے میں سوچا ہے تو انھوں نے کہا اب رہائش اور سکونت کے لیے امریکہ ہی انکا ملک ہے۔ مستقبل قریب میں تو میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن مستقبل بعید میں یہ میرے منصوبوں میں شامل ہے اور میں نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ باقی دنیا کے اندر جہاں کہیں بھی موقعہ ملا، ٹیچنگ یا انتظامی عہدہ کے طور پر کچھ سالوں کے لیے جاؤں گا کیوں کہ دنیا اب ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے ۔ حُسین نے بتایا کہ انہیں اپنے کام کے علاوہ کتابیں پڑھنا اور دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزرنا پسند ہے۔

تصور شاہ روز نامہ لوبو میں بطور صحافی کام کرتے ہیں. ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے

news@dailylobo.comTwitter @tashah_80

اس تحریر کے اردو ترجمے کی اصلاح حافظ احمد یار نے کی۔ وہ پاکستان میں پلےبڑھے اور آج کل شعبہ زبان، خواندگی اور معاشرتی و ثقافتی علوم میں گریجوایٹ سطح کے طالبعلم ہیں۔ ان سے رابطہ ای میل یا ٹوٹر کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

hafizahmadyar@gmail.com, Twitter @DailyLobo.